Skip to content
یہ کہانی فلم کی نہیں
سماج کی ہے۔
ایک ایسا سماج جو اپنے ہیروز کے لیے ہمیشہ ریشمی گدّے بچھاتا ہے
اور باقی سب کے لیے پتھر۔
دھرمندر کو ہیما مالنی سے شعلے کی روشنیوں میں عشق ہوا۔
,عشق کوئی جرم نہیں
مگر کبھی کبھی قانون ایسا ولن بن جاتا ہے
جس کی دہشت گبر سنگھ سے بھی زیادہ گھنی ہوتی ہے۔
:ہندو میرج ایکٹ نے سختی سے لکھ رکھا تھا
“دوسری شادی نہیں ہوسکتی۔”
:لیکن عشق نے دھرمندر کے کان میں دھیرے سے کہا
“قانون اُن کے لیے ہے جن کے پاس پر نہیں ہوتے
تم اڑ سکتے ہو۔”
سو ایک روز وہ خاموشی سے مذہب بدل گئے
:یوں جیسے اداکار کسی سین میں کپڑے بدلتا ہے
تیزی سے، بے آواز، بغیر کسی شرمندگی کے۔
جو عمل ممنوع تھا
وہی مذہب کی تبدیلی کے ساتھ جائز ہوگیا۔
اور سماج، جو کل تک چیخ رہا تھا
اچانک محبت کے پوسٹر کے سامنے خاموش کھڑا رہ گیا۔
ہیما نے شادی کر لی۔
دو بیٹیاں آئیں
ایشا اور آہنا
ایک فلم کی مسکراہٹ، دوسری رقص کی لَے۔
,عشق نے تمام دیواریں گرا دیں
اور قانون…؟
قانون ایک پرانی، اکھڑی ہوئی وال پوسٹر کی طرح رہ گیا
دیوار پر تو موجود
مگر کہانی میں کہیں شامل نہیں۔
بعد میں دھرمندر کو پدم بھوشن ملا۔
ان کی فلمیں تاریخ میں محفوظ ہو گئیں۔
اور اُن کی مسکراہٹ
ہر تصویر میں
ویسی ہی چمکتی رہی جیسے وہ کسی سدا بہار فلم کے آخری فریم سے نکلے ہوں۔
:لیکن اصل سیاہ حاشیہ یہ ہے
قانون کی تلوار ہمیشہ کمزور کے لیے تیز ہوتی ہے۔
طاقتور جب چاہے نام بدل لے، راستہ بدل لے، مذہب بدل لے
اور پھر بھی ہیرو کہلائے۔
اور لوگ…؟
لوگ بس یہ بحث کرتے رہ جاتے ہیں کہ یہ عشق تھا یا چال۔
:کوئی یہ نہیں پوچھتا
اگر وہ دھرمندر نہ ہوتا
تو کیا عشق پھر بھی اُس کے لیے مذہب بدل سکتا تھا؟
یا وہ بھی کسی عام آدمی کی طرح
تھانوں، عدالتوں اور سرکاری دفتروں میں
اپنی محبت کا پرچہ لیے مارا مارا پھر رہا ہوتا؟
(وہ آخری تصویر جو دھرمندر نے انسٹاگرام پر شیئر کی)
کی کوئی دھیمی سی یاد
آج اس کے پیچھے وہ خود نہیں رہا۔
,آج وہ رخصت ہوا
اور آج ہی اس کا انتم سنسکار بھی ہوگیا۔